Karbala Speech – Essay in Urdu

1
1542
Karbala Essay in Urdu

Find a comprehensive Karbala Speech in Urdu that you can give in your school, college or university. You can also use this speech as Karbala essay in Urdu and prepare notes for your academic studies. It states history of Karbala war with heart-touching couplets and poetry on Karbala.

 

[adsense_inserter id=”3100″]

Karbala Speech in Urdu Waqia Karbala Speech in Urdu Karbala Essay in Urdu History of Karbala War in Urdu

 

[adsense_inserter id=”6214″]

 

History of Karbala War in Urdu Written:

[pukhto_lek]

سانحہ کربلا
مشکلیں ہر قدم پر تھیں چلتے رہے
طے کیا رات دن کربلا کا سفر
بوند تک ان کو پانی کی پینے نہ دی
ان کے دشمن سبھی بن گئے اہلِ شر
صاحبِ صدر اور دوسرے عزیز ساتھیو!
آج مجھے ایک ایسا موضوع دیا گیا ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی اس واقعہ سے تو موت کو بھی پسینہ آگیا ہو گا سنگ دلوں کے دل بھی پسیج گئے ہوں گے۔
اہلِ کوفہ کو جب امیر معاویہؓ کے انتقال اور یزید کی خلافت کی اطلاع ملی تو انہوں نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور سرکار دو عالم ختم المرسلین حضرت محمدﷺ کے نور نظر نواسہء عظیم حضرت امام حسینؓ کو خطوط لکھے اور ہر خط میں التجا کی گئی کہ آپ کوفہ تشریف لائیں اور ہمیں اس ظالم یزید کے چنگل سے آزاد کروا کر اپنی غلامی میں لے لیں۔ جب حضرت امام حسین ؓ کے پاس ڈیڑھ سو خطوط پہنچ گئے تو آپ نے اہلِ کوفہ کو لکھ بھیجا کہ۔
” میں تمہارے مقصد سے آگاہ ہوں میں اپنے بھائی مسلم بن عقیل ؓ کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں تاکہ وہ تمہاری باتوں کو سن کر اور کیفیت کو دیکھ کر مجھ کو صورت حال سے مطلع کر دیں اگر انہوں نے یہ لکھا کہ کوفہ کے رہنے والے میری امامت کے خواہاں ہیں تو میں آجاو¿ں گا“
جنابِ صدر!
مسلم بن عقیل ؓ جب کوفہ پہنچے تو لوگ جوق در جوق ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے آنے لگے انہوں نے یہ صورت حال دیکھ کر حضرت امام حسین ؓ کو لکھ بھیجا کہ یہاں کے باسی آپ کی امامت کے خواہاں ہیں آپ فوراََ تشریف لے آئیں
والی ء کوفہ کو جب اطلاع ملی تو اس نے جامع مسجد میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔
” تم لوگ امت میں فتنہ اور نفرت پیدا کرنے کی کوشش نہ کرو اس کا نتیجہ تباہی اور بربادی ہے جیسا کہ تم خود تجربہ کر چکے ہو۔“
ایک شخص نے یزید کو خط لکھا کہ کوفہ کی یہ حالت ہے کہ یہاں حضرت امام حسین ؓ کے بھائی مسلم بن عقیل ؓ آئے ہوئے ہیں۔ یہاں کے لوگ ان کے ہاتھ پر حضرت امام حسین ؓ کے لیے بیعت کر رہے ہیں اگر کوفہ کو تم اپنے پاس رکھنا چاہتے ہو تو کسی دوسرے والی کو بھیجو جو اس مسلے کو حل کر سکے۔ نعمان سے کچھ نہیں ہو سکے گا۔
جنابِ صدر!
یزید نے نعمان کو معزول کر کے عبیدہ بن زیاد کو بصرہ کے ساتھ کوفہ کا بھی والی بنا دیا اور حکم دیا کہ فوراََ وہاں پہنچ کر مسلم کو نکال دو یا قتل کر دو۔ ابن زیاد کوفہ آیا اور اعلان کیا کہ
” میں فرماں برداروں پر مہربان اور فتنہ پردازوں کا دشمن ہوں۔ ہر محلہ کے جو رئیس ہیں وہ اپنے محلہ کے نام لکھ کر مجھ کو دیں او ر جو اجنبی خارجی یا مشکوک آدمی ملے اس کو میرے پاس لائیں ہر شخص اپنے حلقے کا ذمہ دار ہو گا۔ جس محلہ میں کوئی باغی ملے گا اس محلہ کے رئیس کو اس کے دروازے پر پھانسی دی جائے گی“
جنابِ صدر!
قصہ مختصر یہ کہ مسلم بن عقیلؓ مختار نامی شخص کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے مختار سے بار بار مطالبہ کیا گیا کہ مسلم بن عقیل ؓ کو ہمارے حوالے کر دو لیکن مختار نہ مانا اور مار کھاتا رہا۔ بالآخر مسلم بن عقیلؓ نے نعرہ حق بلند کیا اور خود ہی میدان میں آگئے اس وقت ان کے ساتھ چار ہزار افراد تھے مگر آہستہ آہستہ صرف تیس آدمی رہ گئے ابن زیاد نے محمد بن اشعت کو مسلم بن عقیلؓ کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجا۔مسلم نے ان سے کہا ” میں جانتا ہوں تم مجھے امان نہیں دے سکو گے لیکن اگر میرا ایک کام کر دو گے تو میں تمہارا بڑا احسان مند رہوں گا“ وہ یہ کہ حضرت امام حسین ؓ کو میرے حال سے آگاہ کر دینا کہ وہ یہاں ہر گز نہ آئیں اور اگر روانہ ہو گئے ہوں تو راستہ سے ہی واپس چلے جائیں۔ کوفہ والے اعتماد کے قابل نہیں ہیں ان کے فریب میں آ کر اپنے آپ کو مصیبت میں نہ ڈالیں۔ محمد بن اشعت نے کہاکہ ” میں آپ کی اس فرمائش کی ضرور تعمیل کروں گا“ چنانچہ اس نے مضمون کا خط لکھ کر قاصد روانہ کر دیا۔
ابن زیاد نے قصر کی بلندی سے حضرت مسلم بن عقیلؓ کا سر کٹوا کر گرایا اور پھر جسد مبارک بھی لٹکا دیا۔
حضرت امام حسین ؓ نے مسلم کا خط پڑھا لیکن مسلم بھی تو مصیبت میں گرفتار ہو چکے تھے تو امام حسینؓ نے کوفہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔
عزم محکم کی بدولت دل رہا ثابت قدم
سینکڑوں طوفاں اس ساحل سے ٹکراتے رہے
جنابِ صدر!
حضرت حسینؓ محرم ۱۶ ہجری کو کربلا کے میدان میں پہنچے۔ یہ جمعرات کا دن تھا۔ ابن زیاد نے سعد بن ابی وقاصؓ کے بیٹے کو چار ہزار فوج کے ساتھ حضرت حسینؓ کے مقابلے کے لیے روانہ کیا۔ یہ محرم کی تین تاریخ تھی۔ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو لکھا کہ ” حضرت حسینؓ سے یزید کی بیعت لو ورنہ ان پر دریا کا پانی بند کر دو۔ چنانچہ یزیدی فوج کے پانچ سو آدمی گھاٹ پر مامور کر دیے گئے۔
بوند تک ان کو پانی کی پینے نہ دی
ان کے دشمن بن گئے سب اہل شر
آخر کار جنگ شروع ہو گئی۔ حضرت امام حسین ؓ کے جا نثار ایک ایک کر کے آپ کی حفاظت میں فدا ہو گئے اب اہل بیعت کی باری آئی سب سے پہلے حضرت علی اکبرؓ نے شہادت پائی اس کے بعد سادات کے دیگر نوجوانوں نے دلیری اور سرفروشی کا عدیم المثال مظاہرہ کر کے شہادت پائی۔
حضورِ والا!
حضرت حسینؓ میدان جنگ میں تنہا رہ گئے آپ نے اکیلے ہی کوفی لشکر کا مقابلہ کیا زخم پر زخم کھاتے رہے لڑتے رہے آپ کے کمسن بچے علی اصغرؒ کو ایک تیر لگا اور وہ بھی اللہ کی راہ میں قربان ہو گیا۔
حضرت امام حسین ؓ کو پیاس نے ستاےا تو دریائے فرات کی طرف رخ کیا ایک تیر آپ کے چہرہ مبارک پر لگا اور خون بہنے لگا آپ چلو خون سے بھر کر آسمان کی طرف دیکھا ۔ دشمنوں نے آپ کو گھیر لیا آپ کا ایک بھتیجا آپ کے پاس کھڑا ہوا ایک شخص نے آپ پر تلوار چلائی تو بھتیجے نے اپنے ہاتھ پر روکی ہاتھ کٹا اور جلد سے لٹک کر رہ گیا۔ حضرت امام حسین ؓ تلوار لے کر جس طرف مڑتے حملہ آور بھاگ جاتے تھے۔ آپ پیدل ہونے کے باوجود شاہسواروں جیسی شان سے لڑ رہے تھے۔ آپ کے ہاتھ اور شانہ پر تلواریں پڑیں ایک بد بخت نے نیزہ کا وار کیا اور آپ گر پڑے ایک ظالم نے آپ کا سر تن سے جدا کر دیا اور اس طرح اس عظیم مجاہد کی شہادت سے سانحہ کربلا کو اختتام ملا۔
کوثر یہ جام ساقی ء کوثر پلائیں گے
جو غم کرے گا اصغر و اکبر حسین کا

[/pukhto_lek]

 

 
[adsense_inserter id=”3414″]  

 

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

:bye: 
:good: 
:negative: 
:scratch: 
:wacko: 
:yahoo: 
B-) 
:heart: 
:rose: 
:-) 
:whistle: 
:yes: 
:cry: 
:mail: 
:-( 
:unsure: 
;-)