Hazrat Abu Bakr Essay – Speech in Urdu

1
89
Hazrat Abu Bakr Siddique Speech in Urdu

Here is a beautiful speech and essay on Hazrat Abu Bakr Siddique (R.A) in Urdu. This is a marvelous speech for matriculation, college or university level students.

 

 
 

 

Hazrat Abu Bakr Siddique in Urdu

 

speech on hazrat abu bakr in urduhazrat abu bakr siddique essay in urdu

 

 
 

 

Speech on Hazrat Abu Bakr Siddique (R.A) in Urdu Written

[pukhto_lek]

حضرت ابو بکر صدیقؓ
جب کبھی راستہ حالات کا دھندلایا ہے
کام آتی ہے زمانے میں ضیائے درویش
جنابِ صدر اور قابل قدر سامعین!
حضرت ابو بکر صدیقؓ قریش کے ایک معزز قبیلہ بنی تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب سات پشت کے بعد مرہ بن کعب پر ختم المرسلین خاتم النبین آنحضرتﷺ کے شجرہ سے جا ملتا ہے۔ آپ عثمان بن عامر کے لختِ جگر اور سلمیٰ بنت صخر کے لال تھے۔
جنابِ صدر!
وہ عظیم انسان جس کو اشجع العربﷺ نے وقت ہجرت اپنا ہمسفر بنانے کی سعادت بخشی یہ وہی متقی اور پرہیزگار شخص تھا جس کو آقائے دو جہاں ﷺ نے مرض الموت میں اپنی جگہ امامت کا حکم دیا۔ یہ اسی صدیقہ اور طاہرہ کا باپ تھا جسے خیر البشر اور افضل الرسلﷺ کی سب سے چہیتی بیوی اور رفیق حیات ہونے کا شرف حاصل ہوا یہ وہی محترم انسان تھا جس کے متعلق رحمتہ اللعالمینﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ
لو کنت متخذا من عباد خلیلاََ لا تخذت ابابکر خلیلاََ
آپ کے والدین نے آپ کا نام عبد الکعبہ رکھا تھا یہ مشرکانہ نام تھا لہٰذا جب آپ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو سرور کائنات فخر موجوداتﷺ نے آپ کا نام بدل کر عبداللہ رکھ دیا۔ آپ کا لقب ” صدیق و عتیق“ تھا۔ صدیق کے معنی ہیں صدق کو بلا تامل قبول کرنے والا اور عتیق حسین و جوانمرد انسان کو کہتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ نے آپ کو قرآن مجید میں ثانی اثنین کا خطاب فرمایا ہے۔ یہ وہی عظیم انسان ہے جسے ہم ” یارِ غار“ کہتے ہیں۔ اور یہ لفظ ہماری زبان میں بطور محاورہ نہایت مخلص ، بے ریا اور سچے دوست کے لیے بولا جاتا ہے۔ آپ بڑے عقلمند و فہیم اور نہایت حلیم و بردبار تھے۔ رحم و شفقت اور ملنساری و ثروت آپ کی گٹھی میں پڑی ہوئی تھی۔ اس وقت جب شراب عرب میں پانی کی طرح پی جاتی تھی آپ اس ام الخبائث سے مکمل اجتناب اور نفرت کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی شراب کا ایک قطرہ بھی نہیں چکھا۔ غربا کی امداد مساکین کی اعانت ، بیواو¿ں کی ہمدردی ، یتیموں کی دلدہی ، عزیزوں سے حسن سلوک اور مسافروں کی خدمت آپ کے مخصوص اوصاف تھے۔
صدیق اکبرؓ ایسے اثر انگیز طریقے سے اور اتنے درد و سوز کے ساتھ آیات قرآنی کی تلاوت کرتے تھے کہ راہ گیر کھڑے ہو کر سننے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ عورتوں پر خصوصاََ زیادہ اثر ہوتا تھا۔ کفار نے صدیق اعظم کو منع کیا کہ یہ کام نہ کرو ہماری عورتیں گمراہ ہوتی ہیں مگر یہ مجاہد راہ حق سے کب بھٹکنے والا تھا۔
کفار نے آپ پر تکالیف و مصائب کی انتہا کر دی۔ حضورﷺ کی اجازت سے مکہ سے ہجرت کرنے لگے شہر سے باہر نکلے تو مکہ کا مشہور رئیس ابن الدغنہ ملا اس نے دریافت کیا۔

َ” کدھر چلے؟ اے صدیق!“
مجاہد راہ حق نے جواب دیا تمہارے شہر والے مجھے رہنے نہیں دیتے۔ محض اس جرم میں کہ میں نے بتوں کی پوجا چھوڑ کر ایک معبود کی اطاعت کیوں کر لی؟
ابن الدغنہ نے کہا نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم جیسا شریف نیک نفس ، یتیموں کا ہمدرد، غریبوں کا معاون اور اعلیٰ درجہ کا مہمان نواز مکہ سے چلا جائے۔ میں تمہیں پناہ دیتا ہوں کوئی شخص تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا چلو واپس۔
یہ کہی کر وہ ابو بکر صدیقؓ کو اپنے ساتھ لے آیا اور اپنی امان کا اعلان خانہ کعبہ میں کھڑے ہو کر دیا لیکن آپ نے بہت جلد یہ امان واپس کر دی۔ اس مرد مجاہد ہی کا
قول ہے کہ ” اپنی حفاظت اللہ کے نام سے کرو وہ تمہیں شکست اور وبا سے محفوظ رکھے گا۔

[/pukhto_lek]

Hopefully you liked Hazrat Abu Bakr Siddique (R.A) speech and essay in Urdu. It would surely help students for speech contests in your school, college or university. And also allow you to explore the life and personality of the Great Hazrat Abu Bakar Siddiq (R.A) – the companion of Prophet Muhammad (peace be upon him).

Share your comments on this speech essay on Hazrat Abu Bakr Siddique in Urdu
 

 
 

 

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

:bye: 
:good: 
:negative: 
:scratch: 
:wacko: 
:yahoo: 
B-) 
:heart: 
:rose: 
:-) 
:whistle: 
:yes: 
:cry: 
:mail: 
:-( 
:unsure: 
;-)