Mohsin e Insaniyat Essay (Speech) in Urdu

21
187
mohsin e insaniyat essay - speech in urdu

Here is a beautiful essay on Mohsin e Insaniyat in Urdu for 2nd year or intermediate students. You can also present this essay as a speech in your school or college contests. I am providing this mohsin e insaniyat speech in image as well as written text in Urdu.

Mohsin e insaniyat essay in Urdu

Mohsin e Insaniyat Speech in Urdu

 

Speech on Mohsin e Insaniyat in Urdu (Written):

         محسنِ انسانیت محمدِ مصطفیﷺ

صاحبِ صدر اور معزز سامعین!
سرورِ کائنات فخرِ موجودات سرکار دو عالم ﷺ محسنِ انسانیت، رشد و ہدایت کا منبع ہیں۔ آپ کی حیاتِ طیبہ آپ کے قول و ارشادات، آپ کا کردار، آپ کی سیرت حتیٰ کہ آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ بنی نوع انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے انسانیت کی خدمت کا وہ درس دیا ہے جو دنیا کا کوئی معلم نہیں دے سکا آپ نے انسانیت پر احسان کر کے دنیا میں وہ مثال قائم کی ہے جس کی نظیر نہ تھی نہ ہے اور نہ ہو گی۔
دکھ درد کے ماروں کو غم یاد نہیں رہتے
جب سامنے آنکھوں کے غم خوار نظر آئے
جنابِ صدر!
سید سلمان ندوی نے محسنِ انسانیتﷺ کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا خوب کہا ہے۔
ّ” اگر دولت مند ہو تو مکے کے تاجروں اور بحرین کے خزینہ دار کی تقلید کرو اور غریب ہو تو شعب ابی طالب کے قیدی اور مدینے کے مہمان کی کیفیت سنو اور بادشاہ ہو تو سلطانِ عرب کا حال پڑھو اگر رعایا ہو تو قریش کے محکوم کو ایک نظر دیکھو اگر حاکم ہو تو بدر و حنین کے سپہ سالار پر نگاہ دوڑاو¿، اگر تم نے شکست کھائی ہے تو معرکہ احد سے عبرت حاصل کرو ، اگر تم معلم اور استاد ہو تو صفہ کی درسگاہ کے معلم اقدس کو دیکھو اگر شاگرد ہو تو روح الامین کے سامنے بیٹھنے والے پر نظر جماو¿ اور واعظ اور ناصح ہو تو مسجدِ مدینہ کے منبر پر کھڑے ہونے والے کی باتیں سنو اگر تنہائی اور بے کسی عالم میں حق کی منادی کا فرض انجام دینا چاہتے ہو تو مکے کے بے یارو مددگار نبی کا اسوہ¿ حسنہ تمہارے سامنے ہے اگر تم حق کی نصرت کے بعد اپنے دشمنوں کو زیر اور مخالفوں کو کمزور بنا چکے ہو تو فاتح مکہ کا نظارہ کرو اگر اپنے کاروبار اور دنیاوی جدوجہد کا نظم و نسق درست کرنا چاہتے ہو تو بنی نضیر اور خیبر کی زمینوں کے مالک کے کاروبار اور نظم و نسق کو دیکھو اگر یتیم بچے ہو تو حلیمہ سعدیہ کے لاڈلے بچے کو دیکھو اگر یتیم ہو تو عبداللہ اور آمنہؓ کے جگر گوشے کو نہ بھولو اگر تم چرواہے ہو تو مکے کے ایک چرواہے کی سیرت پڑھو اگر سفری تاجر ہو تو پھر بصرہ کے کاروان سالار کی مثالیں ڈھونڈو اگر عدالت کے قاضی اور پنچایتوں کے ثالث ہو تو کعبہ میں نور آفتاب سے پہلے داخل ہونے والے ثالث کو دیکھو جو حجرِ اسود کو کعبہ کے ایک گوشہ میں کھڑا کر رہا ہے۔ مدینہ کی کچی مسجد کے صحن میں بیٹھنے والے منصف کو دیکھو جس کی نظر انصاف میں شاہ و گدا اور امیر و غریب برابر تھے اگر تم بیویوں کے شوہر ہو تو خدیجہؓ اور عائشہؓ کے مقدس شوہر کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ کرو اگر اولاد والے ہو تو فاطمہؓ کے باپ اور حسنؓ اور حسینؓ کے نانا کا حال پوچھو۔ غرض تم جو کوئی بھی ہو اور کسی حال میں بھی ہو تمہاری زندگی کے لیے نمونہ تمہاری سیرت کے لیے درستی اور اصلاح کے لیے سامان ظلمت خانہ کے لیے ہدایت کا چراغ اور رہنمائی کا نور محمدﷺ کی جامعیت کبریٰ کے خزانہ میں ہر وقت مل سکتا ہے۔
بصیرتوں کا مرقع رہا وہ امی لقب
کھلی کتاب ہے وہ اب بھی آدمی کے لیے

 

 

21 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

:bye: 
:good: 
:negative: 
:scratch: 
:wacko: 
:yahoo: 
B-) 
:heart: 
:rose: 
:-) 
:whistle: 
:yes: 
:cry: 
:mail: 
:-( 
:unsure: 
;-)