Essay Speech on Tawheed (Urdu and English)

1
86
aqeeda tawheed short notes in urdu

Tawheed speech and essay in Urdu with English Translation:

Tawheed or Tawhid refers to oneness of God. In Islam, it is known as Aqeeda e Tawheed which means there is no God but ALLAH. HE is one and the greatest. That’s the eternal fact. Find tauheed notes in Urdu and English translation for students of matric, intermediate and 5th to 8th classes. We have presented a detailed content about tawheed which you can study for speech, for writing an essay or extract short notes from it.

Essay on Tawheed in UrduSpeech on Tawheed in Urdu

 

Tawheed Speech in English [Oneness of God]:

Respected sir and the honored audience!
Oneness of God is the foundation stone of Islam. The actual meaning of ‘Oneness of God’ is to accept and believe that there is only one God ‘ALLAH’ SWT. We believe that ALLAH is one, alone, unrepeatable, matchless and peerless and that is the concept of ‘tawheed’ in the religion Islam.

‘La Ilaha Illallah’ is the elaboration of tawheed, which is accepting that there is no God but ALLAH (Subhanahu Wa Taala) by tongue and heart. HE is Almighty, capable of everything. HE is the creator of whole world. HE is from the day one and will remain eternal. Neither HE sleeps nor snoozes. And whatever is in the lands and skies, HE is the only Lord and Creator. He provides the food to every single living being in the world.

According to Quran in Surah Al-Baqarah:
And your true God is the one ALLAH. There is no God except ALLAH.

Respected Sir!

From the advent of Hazrat Adam (Alahe Salam) to our beloved Prophet Muhammad (Sallallaho Alaihe Wasallam), all messengers of ALLAH taught about the belief of oneness of God. Unbelievers of Makkah used to ask our Prophet Muhammad (peace be upon him) about ALLAH (SWT). In response of their questions, ALLAH SWT descended Surah Ikhlas in which ALLAH SWT said:

“Say ALLAH is One. HE is free of needs. Neither he is father nor a son. He is the most superior and the greatest.”

Sir!
That’s the thing which differentiates believers with unbelievers. Tawheed is the belief whose believer succeeds in this world and in the life after death. He fills up his lap with ALLAH’s blessings whereas denier of tawheed always wanders in the gloom. At last, he is to fail in this world as well as the world after death. Majoosis believed (God forbid) that there are two creators, one for good and one for bad. They called the creator for good ‘Yazdan’ whereas the creator of bad  ‘Aharman’.

Respected Sir,
ALLAH SWT is free of needs. We all are dependent to ALLAH but he is to no one. We all are accountable to HIM but he is not. Neither he is offspring to anyone nor he has any. He is the creator and maker of the world. And every superior and inferior in the world is dependent to ALLAH to fulfill his needs. Then who can even think to rival HIM. No one, By ALLAH, no one.

Those (God Forbid) who claimed to be god were made a symbol of warning and punishment. Shaddad who claimed to be god, where is he today? He was the hapless whose helplessness was obvious. Our creator ALLAH is never helpless. Where is the Firoun who claimed himself a god (God forbid). Go and view him in the museum of Egypt where he is kept as a symbol of punishment. People come and watch him, his helplessness. If he were god (God forbid), were he dead today?

Those who leave the door of ALLAH and stray on the wrong paths, bend before non-ALLAH, they remain failed, dishonored and disgraced.

Tawheed Speech in Urdu Written:

توحید
شوق میری لے میں ہے شوق میری نَے میں ہے
نغمہء اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہے

جنابِ صدر گرامی اور ذی احترام سامعین!
دینِ اسلام کا سنگِ بنیاد توحید ہے ۔ توحید کے لغوی معنی واحد یکتا ، ایک ماننا کے ہیں۔ اسلام میں خداوند قدوس کو وحدہ لا شریک، لاثانی، منفرد، اپنی صفات میں یکتا اور بے مثال ماننا توحید کہلاتا ہے۔توحید کا خلاصہ لا الہٰ الااللہ ہے۔
یعنی اس بات کا زبان سے اقرار اور قلب سے تصدیق کرنا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں وہ ہر شے پر قادر ہے۔ رب العالمین ہے۔ازل سے ہے ابد تک رہے گا۔ حیی قیوم ہے نہ اسے نیند آتی ہے نہ اونگھ آتی ہے اور زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اس کا تنہا خالق و مالک ہے۔ وہ ہر شے کا رب ہے۔ ہر جاندار کا پالنے والا ہے رب کریم سورة بقرہ میں ارشاد فرماتا ہے۔
وَ اِ لٰھُکُم اِلٰہُ وَاحِد لاَ اِلٰہَ اِلّا ھُوَ الرحمٰن الرحیم
اور تمہارا معبودِ حقیقی صرف ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی رحمن و رحیم ہے۔

صدرِ محترم!
حضرت آدم ؑ سے لے کر نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ تک جتنے انبیاؑ تشریف لائے ان سب نے عقیدہ توحید کا ہی پرچار کیا ہے۔ کفارِ مکہ نبی کریمﷺ سے پوچھتے تھے کہ اللہ کیسا ہے؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورة الاخلاص نازل فرمائی اس میں رب العزت نے ارشاد فرمایا۔
کہو وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور نہ کوئی اس کی برابری کرنے والا ہے۔

جنابِ صدر!
یہی وہ چیز ہے جو مسلم کو کافر سے ، موحد کو مشرک سے اور مومن کو منکر سے منفرد کرتی ہے۔ یہ کلمہ توحید ہی تو ہے جس کا ماننے والا دنیا و آخرت میں سرخرو ہوتا ہے خدا کی رحمت سے اپنی جھولیاں بھر لیتا ہے جبکہ اس کا منکر ذلت و رسوائی کے اندھیرے میں بھٹکتا رہتا ہے۔ بالآخر اس کے لیے ناکامی اور آخرت میں نارِ جہنم ہے۔ مجوسیوں کا عقیدہ تھا کہ خالق دو ہیں ایک شر کا اور دوسرا خیر کا وہ خیر کے خالق کو یزدان کہہ کر پکارتے تھے اور شر کے خالق کو اہرمن کہتے تھے۔
خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا
جنابِ صدر!
اللہ تعالیٰ حاجات و ضروریات سے پاک ہے۔ اس کے سب محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ اس کے حضور سب جواب دہ ہیں وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے ۔ وہ سب کا خالق و مالک ہے اور دنیا میں ہر ادنیٰ و اعلیٰ اسی سے اپنی حاجات پوری کرتا ہے تو پھر ذات و صفات میں اس کی برابری کون کر سکتا ہے کوئی نہیں، کوئی نہیں خدا کی قسم کوئی نہیں۔

خدائی کا دعویٰ کرنے والوں کو خدا تعالیٰ نے ہمارے لیے عبرت بنا دیا ہے۔ شداد العین کو دیکھیں جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا کہاں ہے آج یہ وہی بد بخت تھا جس کی بے بسی پر موت کو بھی ترس آیا تھا۔ خدا بے بس تو نہیں ہوتا۔ کہاں ہے وہ فرعون جو اپنے آپ کو خدا کہتا تھا ۔ جا کے دیکھو مصر کے عجائب گھر میں عبرت بنا پڑا ہے اگر خدا ہوتا تو ہمیشہ زندہ نہ رہتا ۔ جو لوگ اللہ کا در چھوڑ کر اِدھر اُدھر بھٹکتے ہیں اور غیر اللہ کے دروازے پر جا کر سجدہ ریز ہوتے ہیں تو پھر وہ ذلیل و خوار ہو جاتے ہیں۔ علامہ اقبال نے ایسے ہی موقع پر کیا خوب کہا ہے
یہ ایک سجدہ تو جسے گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

 

 

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

:bye: 
:good: 
:negative: 
:scratch: 
:wacko: 
:yahoo: 
B-) 
:heart: 
:rose: 
:-) 
:whistle: 
:yes: 
:cry: 
:mail: 
:-( 
:unsure: 
;-)